ترک جمہوریہ کی صد سالہ تقریبات، 2023ء میں “ترک لالا” ڈرامہ ریلیز ہو گا

لاہور: (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کی خواہش پر پاکستان اور ترکی کے نجی پروڈکشن ہاؤسز کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت ’ترک لالا‘ کی زندگی اور جنگی کاوشوں پر ڈراما بنایا جائے گا اور اس کا پہلا سیزن 2023 تک ریلیز کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق نومبر 2020 میں اداکار عدنان صدیقی نے پاکستانی فلم پروڈیوسر ڈاکٹر کاشف انصاری اور ترکی کے تکدن فلم کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) کمال تکدن کی ویڈیو شیئر کی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ دونوں ممالک کے پروڈیوسرز نے مشترکہ منصوبے پر کام کرنے کا معاہدہ کرلیا۔

بعد ازاں جنوری 2021 میں کمال تکدن پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) پر اردو میں چلنے والے ترک ڈرامے ’ارطغرل غازی‘ کے اداکاروں کے ساتھ پاکستانی دورے پر آئے تو انہوں نے وزیر اعظم عمران خان اور صدر مملکت سے بھی ملاقات کی۔

ترک وفد کی حکومت پاکستان کے اعلیٰ سطح کے وفد سے ملاقات کروانے میں عدنان صدیقی اور ہمایوں سعید نے اہم کردار ادا کیا تھا اور ملاقاتوں کے دوران وزیر اعظم عمران خان کو بتایا گیا تھا کہ دونوں ممالک نے مشترکہ معاہدے سے متعلق معاہدہ کرلیا۔

اس حوالے سے عدنان صدیقی اور ہمایوں سعید نے انٹرویو میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدے سے متعلق مزید تفصیلات بتائیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان ارطغرل غازی جیسے ڈرامے بنائے: وزیراعظم عمران خان

ہمایوں سعید نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان نجی سطح پر ’ترک لالا‘ نامی تاریخی ڈراما بنانے سے متعلق معاہدہ ہوا ہے جو ترکی کے ’تکدن فلمز‘ اور پاکستان کے ’انصاری فلمز‘ پروڈکشن کے درمیان ہوا ہے۔

عدنان صدیقی کے مطابق ’انصاری فلمز‘ کے مالک ڈاکٹر کاشف انصاری بیرون ملک مقیم پاکستانی ہیں جو شوبز انڈسٹری میں سرمایہ کاری کے خواہاں تھے۔

ہمایوں سعید کے مطابق وہ دونوں بھی اس معاہدے کا اہم حصہ ہیں، کیوں کہ وہ دونوں ’ترک لالا‘ کے ایگزیکٹو پروڈیوسرز ہوں گے۔

حکومت کی جانب سے مالی معاونت سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ہمایوں سعید نے واضح کیا کہ حکومت نے بھی معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے تاہم فوری طور پر حکومت سے کوئی مالی معاونت نہیں ملی۔

اداکار نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے مشترکہ معاہدے کی بہتر اور وقت سر تکمیل کے لیے وہ حکومت پاکستان سے شوٹنگ کے دوران بر وقت ویزوں کے اجرا اور شوٹنگ کے لیے مطلوب مقامات میں شوٹنگ کی اجازت میں معاونت کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے اُمید کا اظہار کیا کہ حکومت اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرکے ’ترک لالا‘ جیسے میگا بجٹ اور بڑے منصوبے کو بروقت مکمل کرنے میں معاونت فراہم کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ترک ڈراموں کی مقبولیت نے پاکستان میں دھاک بیٹھا دی

ہمایوں سعید نے ’ترک لالا‘ کے حوالے سے ڈان آئیکون کو بتایا کہ ابھی کہانی لکھے جانے اور کرداروں کی تخلیق پر کام جاری ہے، تاہم جلد ہی ڈرامے کی کاسٹ کے لیے اوڈیشن کا آغاز کردیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں ہمایوں سعید اور عدنان صدیقی نے کہا کہ ابھی انہیں خود بھی معلوم نہیں کہ ڈرامے میں ’ترک لالا‘ کا مرکزی کردار ادا کون کرے گا تاہم وہ دونوں بھی اس ڈرامے کا حصہ ہوں گے۔

ہمایوں سعید نے اُمید کا اظہار کیا کہ انہیں یقین ہے کہ حکومت پاکستان ’ترک لالا‘ جیسے ڈرامے کو بھی ’ارطغرل غازی‘ کی طرح پی ٹی وی پر نشر کرے گی، کیوں کہ پی ٹی وی پورے ملک میں کیبل کے بغیر بھی چلتا ہے۔

ہمایوں سعید اور عدنان صدیقی نے کہا کہ ابتدائی طور پر ’ترک لالا‘ کے تین سیزن بنائے جائیں گے اور ہر سیزن میں 30 قسطیں شامل ہوں گی۔

ہمایوں سعید نے اُمید کا اظہار کیا کہ ’ترک لالا‘ کا پہلا سیزن 2023 تک ایسے موقع پر ریلیز کیا جائے گا جب کہ ترکی میں جمہوریت کے 100 سال مکمل ہوجائیں گے۔

دونوں اداکاروں کے مطابق ’ترک لالا‘ کی شوٹنگ پاکستان اور ترکی سمیت دیگر ممالک میں بھی کی جا سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں