کوئٹہ: دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی گندے پانی سے سبزیوں کی کاشت جاری

کوئٹہ: کوئٹہ اور گردونواح میں کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی گندے پانی سے سبزیوں کی کاشت کا سلسلہ نہیں رک سکا، سیوریج کے پانی سے سبزیاں اگانے والوں کے خلاف کئی بار کارروائی بھی کی گئی مگرسب بےسود ثابت ہو رہا ہے۔

کوئٹہ میں سبزل روڈ، مغربی بائی پاس، نوحصار، جان محمد روڈ، اختر محمد روڈ، کلی جیو، کلی کرانی، قمبرانی روڈ اور دیگرعلاقوں میں وسیع اراضی پر سیوریج کے گندے پانی سے کھیتوں میں کئی دہائیوں سے سبزیاں کاشت جاری ہے، گندے پانی سے تیار ہونے والی فصلیں ہیپا ٹائٹس، ہیضہ ٹائیفائیڈ سمیت کئی دیگر بیمایوں کے پھیلائو کا سبب بند رہی ہیں۔

بلوچستان ہائیکورٹ نے بھی گندے اور زہریلے پانی سے فصلوں کی کاشت کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ بلوچستان فوڈ اتھارٹی بھی گندے پانی سے کاشت کی جانے والی فصلیں تلف کرتی ہے۔ گندے پانی سے سبزیاں کاشت کرنے والے افراد کہنا ہے کہ ماضی میں بھی انتظامیہ کی جانب سے فصلیں تلف کر کے ان کامعاوضہ دینے کا کہا گیا جو تاحال ادا نہیں کیا گیا۔ ان کے پاس روزگار کے دیگر ذرائع نہیں وہ مجبور سیوریج کے پانی کواستعمال کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں