سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس معاف کرانے کے بعد مال فروخت کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

پشاور: سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس معاف کرانے کے بعد بندوبستی علاقوں میں مال فروخت کرنیوالے کاروباری افراد کے خلاف کارروائیوں کا فیصلہ کرلیا گیا، ڈیڑھ سو سے زائد کاروباری افراد کی نشاندہی بھی کر لی گئی، تاجر کہتے ہیں دھوکہ دہی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائیاں کی جائیں۔<img src="http://www.dmhnews.tv/wp-content/uploads/2021/02/589373_19264293-300×200.jpg" alt="" width="300" height="200" class="alignnone size-medium wp-image-11127" /
ایف بی آر کا فاٹا، پاٹا کے نام پرٹیکس معاف کروا کے سیٹل ایریا میں مال فروخت کرنے والوں کے خلاف کاروائیوں کا آغاز، 2023 تک حکومت کی جانب سے فاٹا اور پاٹا سمیت مختلف علاقوں میں عوام کی سہولت اور ترقی کیلئے انکم اور سیلز ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ہے تاہم کچھ مفاد پرست ٹیکس میں رعایت تو لے لیتے ہیں لیکن فائدہ عوام کے بجائے خود ہڑپ کرلیتے ہیں۔ ایف بی آر خیبر پختونخوا نے ایسے افراد کے خلاف سخت کاروائی کا آغاز کر دیا۔
دوسری جانب پشاور کے تاجروں نے بھی ایف بی آر کے اس اقدام کو خوب سراہا، ان کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کاروائیوں سمیت قوانین پر عملدرآمد، سخت آڈٹ اور جرمانے بھی ہونے چاہئیں۔ ایف بی آر کی جانب سے سو سے زائد ٹیکس چوروں کو نوٹسز بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں