کشمیریوں کیساتھ کیا ہو رہا ہے ہمیں سوچنا چاہیئے: ابھی نندن کا نیا بیان منظر عام پر

لاہور: ابھی نندن کا نیا بیان منظرعام پر آگیا، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ معلوم نہیں امن لانے کیلئے کیا کرنا چاہیئے، لیکن امن ہونا چاہیئے، کسی عداوت کو جاری رکھنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، کشمیریوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ہمیں سوچنا چاہیئے، پاک فوج کوبہت پیشہ ورانہ اور نڈر پایا۔
بھارتی پائلٹ ابھی نندن نے اپنے نئے بیان میں کہا کہ اُوپر سے نیچے آتے ہوئے پیرا شوٹ میں دونوں ملک دیکھے، مجھے دونوں ملک میں کچھ فرق پتہ نہیں چلا، جب گرا تو مجھے پتہ نہیں تھا پاکستان میں ہوں یا اپنے دیس بھارت میں، مجھے چوٹ لگی، جو کافی گہری تھی اور میں ہل نہیں پا رہا تھا۔

ابھی نندن کا کہنا تھا کہ جب مُجھے لگا، اپنے مُلک میں نہیں ہوں تو بھاگنے کی کوشش کی، میرے پیچھے لوگ آئے اور اُن کا جوش کافی زیادہ تھا، وہ لوگ چاہتے تھے مجھے پکڑ لیں، اُسی لمحے پاکستان آرمی کے 2 جوان آئے، انھوں نے مجھے پکڑا اور وہاں سے بچایا، پھر وہ مجھے اپنی یونٹ تک لے کر گئے جہاں ابتدائی طبی امداد دی گئی۔

بھارتی پائلٹ نے مزید کہا کہ پاک فوج بہت پیشہ وارانہ اور قابل تعریف ہے، مجھے دشمنیاں پروان چڑھانے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، چاہتا ہوں ہمارے دیس میں امن رہے اور ہم امن میں رہ سکتے ہیں۔

دوسری جانب بھارت کے 2 جنگی طیارے گرا کر دندان شکن جواب دینے کے آپریشن کو 2 سال مکمل ہوگئے، 26 فروری 2019 کو رات کی تاریکی میں کی گئی بھار ت کی نام نہاد سرجیکل سٹرائیک کا جواب پاکستان کی طرف سے 27 فروری 2019 کو دن کی روشنی میں دیا گیا۔

پاک فضائیہ کے شاہینوں نے اپنی سرحدوں کے اندر رہتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے 6 عسکری اہداف کا لاک کیا لیکن اپنا ایمونیشن ٹارگٹ سے دور گرا کر یہ پیغام دیا کہ آئندہ کوئی غلطی کی تو اِن اہداف کو تباہ بھی کیا جاسکتا ہے، اِسی دوران دشمن کی طرف سے مقابلے کیلئے طیارے بھیجے گئے تو پاک فضائیہ کے شاہینوں نے ایک ولولہ انگیز معرکے کے دوران دشمن کے دو طیاروں کو تباہ کر دیا۔
افراتفری کے عالم میں دشمن ہمارے طیاروں کا تو کچھ نہ بگاڑ سکا البتہ اُس کی طیارہ شکن توپوں نے اپنا ہی ایک ہیلی کاپٹر مار گرایا، معرکے کے دوران تباہ ہونے والے ایک جہاز کا بھارتی پائلٹ ابھی نندن بھی پاکستان کے ہاتھ لگا لیکن امن کی خواہش کے پیش نظر اُسے واپس اُس کے وطن بھیج دیا گیا۔
پاک فضائیہ نے اس کامیابی کو آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ کا نام دیا تھا، اِس آپریشن کے حوالے سے روزنامہ دنیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سکوارڈن لیڈر فیصل ریاض کا کہنا تھا کہ بھارت اور ہمارے درمیان سب سے بڑا فرق ایمان کی مضبوطی اور تربیت کا ہے، انہی دو عناصر کا نتیجہ رہا کہ ہم نے دشمن کو دن کی روشن میں دھول چٹا دی، ایئر فورس کا ہر افسر اور جوان ہمہ وقت پاک فضاؤں کی حفاظت کیلئے سربکف ہے۔
سکواڈرن لیڈر معظم سبطین نے کہا پاک فضائیہ کے شاہینوں نے اپنی قیادت کی طرف سے دئیے گئے اہداف انتہائی کامیابی سے حاصل کیے، دشمن کو یہ مضبوط پیغام یاد رکھنا چاہیے کہ اُس نے آئندہ بھی اگر جارحیت کی جرات کی تو اُسے ایسا ہی دندان شکن جواب ملے گا۔
ادھر پاک فضائیہ نے اپنی اس کامیابی پر صدائے پاکستان کے نام سے ملی نغمہ جاری کیا ہے، جسے گلوکار علی حمزہ نے گایا ہے، بول شہزاد نیئر نے تخلیق کئے ہیں، عکسبندی پاکستان کے مشہور ڈائریکٹر زوہیب قاضی نے کی ہے، یہ ترانہ پاک فضائیہ کے ان سپوتوں کی جرات اور بہادری کو خراجِ تحسین ہے جنہوں نے دشمن کے ساتھ 2019ء میں پیش آنے والے فضائی معرکے میں بہادری کی نئی داستان رقم کی اور ملک و قوم کا وقار بلند کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں