ٹیکس دینے والے تاجروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں : پیاف

ٹیکس دینے والے تاجروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں : پیاف
ٹیکس ریٹ زیادہ ہونے سے ملک میں ٹیکس کلچر کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے : میاں نعمان کبیر
پیچیدہ ٹیکس نظام کے باعث فائلرز کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے، ٹیکس نظام کو سادہ اور آسان فہم بنایا جائے: ناصر حمیدخان
ٹیکسز سمیت دیگر مسائل کے حل کے لئے متعلقہ اداروں پرمسائل کے فوری حل کے لئے زور دیا جائے: جاوید صدیقی

لاہور(پریس ریلیز 14/3/21)پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف)نے اپنی پرانی ڈیمانڈ کا اعادہ کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس نظام کو سادہ اور آسان فہم بنانے کےلئے اس میں بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہیں ۔ٹیکسیشن نظام کو سادہ بنانے کےلئے ہمیشہ سے وکالت کی جاتی رہی ہے لیکن کچھ پریشر گروپ اس بات کی مخالفت کرتے رہے ہیںجوباعث تشویش ہے۔ ایف بی آر کی حالیہ ایکٹو ٹیکس پئیرلسٹ کے مطابق ٹیکس دہند گان کی تعداد ۰۳ فیصد تک کم ہو چکی ہے ، کل این ٹی این ہولڈرز کے مقابلے میں ایک تہائی ریٹرن فائلز ہوئی ہیں جو باعث تشویش ہیں۔ٹیکسیشن نظام میں اصلاحات لائے بغیر ٹیکس نیٹ میں اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔پاکستان میں ٹیکسوں کے ریٹ کافی زیادہ ہیں جس سے ملک میں ٹیکس کلچر کی حوصلہ شکنی ہوتی رہی ہے۔حکومت آئندہ بجٹ میں ٹیکسوں کے ریٹ کم کرے جس سے ٹیکس کلچر کی حوصلہ افزائی ہو گی، ٹیکس کی بنیاد کو وسعت ملے گی اور ملک کے ٹیکس ریونیو میں خاطر خواہ اضافہ ہو گااوراشیاءو خدمات کی پیداواری لاگت بھی کم ہو گی۔ چیئرمین پیاف میاں نعمان کبیر وائس چیئرمین ناصر حمید اور جاوید صدیقی کے ہمراہ ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا وزیر اعظم پاکستان نے بھی ایف بی آر سے ٹیکسیشن نظام میں سادہ اور آسان فہم بنانے کےلئے کہا ہے جو کہ خوش آئند ہے ۔نعمان کبیر نے کہا کہ ٹیکس دینے والے تاجروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں۔حکومت ٹیکس نظام میں ضروری اصلاحات لائے اور ٹیکس نظام کو چھوٹے تاجر کے لئے پر کشش وآسان بنائے۔پیچیدہ ٹیکسیشن نظام و دیگر مسائل کے حل کے لئے بزنس کمیونٹی کو اپنا کاروبار بند کر کے مختلف دفاتر کے چکر لگانا پڑتے ہیں لیکن مسائل حل نہیں ہوتے۔سیئنروائس چیئرمین پیاف ناصر حمید اور جاوید صدیقی نے کہا کہ اگلے مالی سال کےلئے تاجروں کےلئے ٹیکسوں کے ریٹ کم کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ٹیکس نٹ میں آئیں، حکومت آئی ایم ایف سے کسی معاہدے کے تحت نئے ٹیکس اور ڈیوٹیاں لگانے سے گریز کرے ورنہ ٹرید اینڈ انڈسٹری کو نقصان پہنچے گا ۔ ٹیکسز سمیت دیگر مسائل کے حل کے لئے متعلقہ اداروں پرمسائل کے فوری حل کے لئے زور دیا جائے۔

عبد ا لصبور شیخ (سیکرٹری پیاف)

اپنا تبصرہ بھیجیں