ایران کا آئی اے ای اے کو اپنے جوہری پروگرام تک رسائی دینے سے انکار

ایران نے جوہری پروگرام پر نظر رکھنے والے اقوام متحدہ کے ادارے آئی اے ای اے کو اپنے جوہری پروگرام تک رسائی دینے سے انکار کردیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے انٹرنیشنل ایٹمی انرجی ایجنسی اور تہران کے درمیان معاہدے کو زائد المعیاد قرار دیا ہے۔

اسپیکر کا کہنا تھا کہ تہران کبھی بھی اپنی نیو کلیئر سائٹ کی اندرونی تصاویر اقوام متحدہ کے مانیٹر ادارے کے حوالے نہیں کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں
جوہری مرکز پر حملہ: ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا کو خبردار کردیا
2015 کی جوہری ڈیل پرعالمی طاقتوں سے مذاکرات کا ابھی مناسب وقت نہیں: ایران
چاہتے ہیں ایران دوبارہ جوہری معاہدے میں شامل ہو: امریکا
اسپیکر محمد باقر نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کی مانیٹرنگ کے حوالے سے معاہدہ اب زائد المعیاد ہوچکا ہے جس کے بعد کسی بھی قسم کی تفصیلات، ڈیٹا اور تصاویر انٹرنیشنل ایٹمی انرجی ایجنسی کے ساتھ شیئر نہیں کیا جائے گا اور یہ صرف ایران کے پاس ہی رہے گا۔

ایران کی قومی سلامتی اور خارجہ امور کی پارلیمانی کمیٹی کے ترجمان نے خبردار کیا ہےکہ اگر امریکا نے ایران پر عائد پابندیاں نہیں اٹھائیں تو آئی اے ای اے کے تمام کیمروں کو بند کردیا جائے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان تین ماہ کی مانیٹرنگ کے لیے فروری میں ایک معاہدہ طے پایا تھا جس میں ایران نے ایجنسی کو اپنے جوہری پروگرام کی سرگرمیوں سے متعلق مخصوص مانیٹرنگ کی اجازت دی تھی۔

گزشتہ ہفتے آئی اے ای اے نے ایران سے فوری طور پر معاہدے کی توسیع کے حوالے سے جواب دینے کا مطالبہ کیا تھا جس پر ایران کا کہنا تھا کہ ملک کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل اس حوالے سے اب کوئی فیصلہ کرے گی۔

دوسری جانب ایران کے اعلان پر امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہےکہ ایران کی جانب سے معاہدے میں توسیع میں ناکامی پر شدید تشویش ہے۔

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہےکہ ایران کا یہ اعلان عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے سے متعلق مذاکرات میں مزید مشکلات پیدا کرے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں