کیا بے شرمی عام کرنا فیمنزم کا مقصد ہے؟ شہروز سبزواری

اداکار شہروز سبزواری اہلیہ صدف کنول کے شوہر سے متعلق دیے گئے بیان کے بعد ان کی حمایت میں سامنے آگئے۔

شہروز سبزواری نجی ٹی وی چینل کے نیوز شو میں جلوہ گر ہوئے اور میزبان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے صدف کنول کے بیان پر ان کی کھل کر حمایت کی۔

شہروز کا کہنا تھا کہ اہلیہ صدف کنول کے بیان پر مخالفت کرتے ہوئے کہا گیا اس طرح کے بیان نے معاشرے میں موجود پریشان خواتین کو مزید پریشان کردیا ہے لیکن ایسا نہیں ہے، میں خود بھی مسلمان ہوں، صدف سمیت میرا پورا گھرانہ ہر اس عورت کے ساتھ کھڑا ہے جو پریشان ہے مگر جو عورتیں بے شرمی کو عام بنانا چاہتی ہیں ہم ان کے ساتھ نہیں کھڑے۔

انہوں نے کہا کہ عورت مارچ میں غیر مناسب نعرے لگائے گئے لیکن اس کے باوجود میڈیا خاموش رہا، مجھے یہ دیکھ کر احساس ہوا کہ بحیثیت اسلامی جمہوریہ پاکستان آج ہم کہاں کھڑے ہیں ؟ ہماری عورت تو اسلام سے خوش ہے۔

یہ بھی پڑھیں
سبیکا امام کی صدف کنول پر شدید تنقید
صدف کنول ٹوئٹر پر کیوں ٹرینڈ کررہی ہیں؟
شوہر کو شوہر ہی سمجھیں اور ایک درجہ اوپردیں: صدف کنول
اداکار کا کہنا تھا کہ اسلام میں یہ کہیں نہیں ہے کہ کسی کا ماضی اس کے حال میں دکھا کر اس کو شرمندہ کیا جائے، جنہوں نے صدف کی ماضی کی ویڈیوز کو ان کے حال میں دکھا کر ان سے سوالات کیے انہوں نے ایک طرح سے اپنا کیس خود ہی کمزور کردیا اور یہ ایک چھوٹا سا طبقہ ہے جس نے صدف کی مخالفت کی، بصورت دیگر پچھلے 4 روز سے پاکستان کی خواتین صدف کے ساتھ کھڑی ہیں۔

شو میں شریک اداکارہ سلمیٰ ظفر نے شہروز کی بات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ صدف کنول نے معصومانہ انداز میں اپنے بارے میں بات کی لیکن موجودہ حالات کے پیش نظر لوگوں کو یہ بات بری لگی۔

اس پر شہروز نے سلمیٰ ظفر سے سوال کیا کہ فیمنزم کا اصل مقصد یہ ہے کہ جن عورتوں کے پاس اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے کی طاقت نہیں انہیں آواز دی جائے لیکن میرا آپ سے سوال ہے کہ کیا بے شرمی عام کرنا فیمنزم کا مقصد ہوگیا ہے؟

شہروز کے سوال پر اداکارہ نے جواب دیا کہ تشدد کا شکار خواتین میں بہت سی ایسی خواتین بھی شامل ہیں جنہوں نے فیمنزم کا مقصد یہ سمجھا کہ ہم جینز پہن کر باہر نکل جائیں گے، بھائی سے پوچھے بغیر باہر نکل جائیں گے ایسے ہی عورتوں نے اس ایجنڈے کو خراب کیا۔

خیال رہے کہ صدف کنول نے اپنے شوہر اداکار شہروز سبزواری کے ہمراہ نجی ٹی وی کے پروگرام میں شرکت کی تھی جہاں انہوں نے بیویوں کے شوہروں سے متعلق حقوق پر مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ شادی شدہ خاتون کو ناصرف شوہر کے کپڑے استری کرنے ہوتے ہیں بلکہ ان کے جوتے بھی اٹھانے ہوتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں