قومی ہاکی ٹیم کے کپتان فٹنس معیار پر پورا نہ اترنے پر سینٹرل کنٹریکٹ سے محروم

پاکستان ہاکی فیڈریشن نے 12 کھلاڑیوں کوسینٹرل کنٹریکٹ دینےکا اعلان کیا ہے جبکہ کپتان رضوان سینیئر فٹنس ٹیسٹ پاس نہ کرنے کی وجہ سے معاہدہ حاصل نہ کرسکے۔

ایتھلیٹکس فیڈریشن کی مخالفت کے باوجود نجمہ پروین کو اولمپکس میں بھیجنےکا انکشاف

‎پاکستان ہاکی فیڈریشن کےسیکرٹری آصف باجوہ نے قومی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین منظور جونیئر اور ہیڈ کوچ خواجہ جنید کے ہمراہ نیوز کانفرنس میں بتایا کہ سینٹرل کنٹریکٹ کو فٹنس سے مشروط کیا گیا ہے۔

آصف باجوہ کا کہنا تھا کہ 20 کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ دینا تھالیکن31 کھلاڑیوں میں سے 12کھلاڑی ہی قدرے معیار پر پورا اُترے، کپتان رضوان سینیئر ، امجد علی ، اظفر یعقوب، رانا وحید اور رانا سہیل فٹنس ٹیسٹ پاس نہ کرسکے۔

انہوں نے بتایا کہ کیٹیگری اے میں عمر بھٹہ، مبشر علی ، اعجاز احمد ، علی شان اور ابو بکر ، کیٹیگری بی میں تعظیم الحسن اور معین شکیل ، کیٹیگری سی میں وقار، عبداللہ ، عقیل احمد ، عمیر ستار اور رومان خان شامل ہیں جبکہ ایمرجنگ کیٹیگری میں دانش ، رضوان علی ، عبید اللہ اور نوید عالم کو کنٹریکٹ ملا ہے۔
آصف باجوہ نے مزید بتایا کہ اےکیٹیگری میں شامل کھلاڑیوں کو 50 ہزار ، بی کیٹیگری میں 40 ہزار ، سی کیٹیگری میں30 ہزار جبکہ ایمرجنگ کیٹیگری میں شامل کھلاڑیوں کو 20 ہزار روپے ماہانہ ملیں گے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری آصف باجوہ کا کہنا تھا کہ فٹنس پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا یہی وجہ ہے کہ کپتان سمیت سینیئر کھلاڑی کنٹریکٹ حاصل نہیں کر سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ دیگر فیڈریشنز بھی پی ایچ ایف کے طریقہ کار کو سراہتے ہوئے عمل کریں گی، جو کھلاڑی فٹنس ٹیسٹ میں فیل ہوئے ہیں انہیں دو مواقع اور دیے جائےگیں اور جو کھلاڑی بینچ مارک پر پورا اتریں گے انہیں سینٹرل کنٹریکٹ دیا جائے گا اور جو مسلسل دو مرتبہ فیل ہوئے تو ان کی جگہ نئے کھلاڑیوں کو لائیں گے۔

آصف باجوہ نے کہا کہ ہر ماہ فٹنس ٹیسٹ ہوں گے جو کھلاڑی فٹنس ٹیسٹ پاس کریں گے ان کا کنٹریکٹ برقرار رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں