سانحہ نائن الیون: متاثرین کا امریکی صدر سے تحقیقاتی دستاویزات سامنے لانے کا مطالبہ

امریکا میں پیش آنے والے سانحہ نائن الیون کے متاثرین نے صدر جوبائیڈن سے واقعے سے متعلق تحقیقاتی دستاویزات سامنے لانے تک برسی کی تقریبات میں شرکت نہ کرنے کا مطالبہ کردیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سانحہ نائن الیون میں ہلاک ہونے والے افراد کے ورثا نے امریکی صدر سے سانحہ سے متعلق دستاویزات سامنے لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ جب تک صدر یہ دستاویزات سامنے نہیں لاتے وہ سانحہ کی یادگار اور برسی کی تقریبات سے دور رہیں۔

یہ بھی پڑھیں
ایک اور نائن الیون طرز کے حملوں کی منصوبہ بندی کا انکشاف، ملزم گرفتار
نائن الیون — دنیا کی تاریخ بدل دینے والی تاریخ
نائن الیون: وہ تاریخ جس نے دنیا کی تاریخ بدل دی
برطانوی میڈیا کے مطابق اس سلسلے میں 1800 افراد کی جانب سے ایک خط پر دستخط کیے گئے ہیں جس میں امریکی صدر سے دستاویزات جاری کرنے مطالبہ کیا گیا جب کہ خط میں کہا گیا ہےکہ انہیں یقین ہے اس سانحہ میں سعودی حکام کی منصوبہ بندی شامل ہے۔

متاثرین نائن الیون نے کہا ہےکہ اگر صدر جوبائیڈن سانحہ سے متعلق دستاویزات سامنے لانے سے انکار کرتے ہیں تو انہیں آئندہ ماہ اس سلسلے میں ہونے والی تقریبات سے دور رہنا چاہیے۔

متاثرین کا کہنا تھاکہ انہیں اپنے عظیم نقصان کے بعد اب کچھ بہتر یقین نہیں ہے، اگر صدر اپنے وعدے کو پورا کرتے ہیں تو انہیں ان مقدس مقامات پر خوش آمدید کہیں گے، بصورت دیگر امریکی صدر ان حملوں کے مقامات سے دور رہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرین کا کہنا ہےکہ سعودی حکام کے پاس ان حملوں کی پہلے سے بہت معلومات تھیں مگر انہوں نے اسے روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔

واضح رہےکہ 11 ستمبر 2001 میں پیش آنے والے سانحہ نائن الیون میں تقریباً 3 ہزار افراد جان سے گئے جب کہ القاعدہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں