شوگر ملز کو چینی کی قیمتوں میں ریلیف کا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

وفاقی حکومت نے شوگر ملز کو چینی کی قیمتوں میں ریلیف دینےکا لاہور ہائی کورٹ کا 3 اگست کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ۔

حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے شوگر ملز کو ریلیف دینے کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرتے ہوئے 3 اگست کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بینچ کا ان چیمبر فیصلہ قانون کی نظر میں برقرار نہیں رکھا جا سکتا، چینی کی قیمت کا تعین پرائس اینڈ کنٹرول ایکٹ کےتحت کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں
جہانگیر ترین کی درخواست پر حکومت کو شوگر ملز کیخلاف کارروائی روکنے کا حکم
شوگر ملز ایسوسی ایشن نے وزیراعظم کو خط لکھ کر ملاقات کا وقت مانگ لیا
چینی اسکینڈل، ایف آئی اے نے جہانگیر ترین کیخلاف مقدمےکا ازسرنو جائزہ لینا شروع کردیا
حکومت کا کہنا ہےکہ لاہور ہائی کورٹ کے پاس قیمت کے تعین کا اختیار نہیں، عدالت عالیہ کا شوگر ملز کو عبوری ریلیف دینے کا فیصلہ حقائق کے برعکس ہے۔

خیال رہےکہ اس سے قبل لاہورہائی کورٹ نے چینی کی قیمت 89 روپے 50 پیسے فی کلو مقرر کرنے کے حکومتی نوٹیفکیشن کے خلاف درخواستیں قابلِ سماعت قرار دی تھیں۔

لاہور ہائی کورٹ نے تمام درخواستیں یکجا کرکے مرکزی کیس کے ساتھ لگانےکا حکم دیتے ہوئے حکومت کو شوگرملز مالکان کے خلاف تادیبی کارروائی سے بھی روک دیا تھا۔

شوگر ملز کا مؤقف تھا کہ حکومت نے چینی کی نئی قیمت ساڑھے89 روپے مقرر کی ہے،جو قابل فروخت قیمت نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں