امریکا سے افغانستان سے انخلا کی تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کریں گے: برطانیہ

برطانیہ کا کہنا ہےکہ امریکی صدر سے افغانستان سے انخلا کی حتمی تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کیا جائے گا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانوی وزرا کا کہنا ہےکہ منگل کے روز ہونے والے جی سیون اجلاس کے موقع پر وزیراعظم بورس جانسن امریکی صدر جوبائیڈن سے افغانستان سے انخلا کی حتمی تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کریں گے۔

برطانوی وزیر برائے مسلح افواج جیمس ہیپی اور جیمس کلیورلی نے کہا کہ برطانیہ امریکا پر زور دے گا کہ وہ افغانستان سے انخلا کے لیے مقرر 31 اگست کی تاریخ کو آگے بڑھائے جس سے لوگوں کی بڑی تعداد کو طالبان سے بچ نکلنے میں مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں
اُمید ہے 31 اگست تک افغانستان سے انخلا مکمل کرلیں گے، امریکی صدر
کابل ائیرپورٹ پر افراتفری برقرار، بیرون ملک جانے کے خواہشمند مزید 7 شہری ہلاک
ٹرمپ نے افغانستان سے انخلا کو امریکا کیلئے بڑی شرمندگی قرار دیدیا
وزیر برائے مسلح افواج کا کہنا تھا کہ برطانیہ آنے کے اہل تقریباً 4 ہزار افراد اب بھی افغانستان میں موجود ہیں اور اگر ممکن ہوا تو برطانوی حکومت مزید ہزاروں افراد کا انخلا کرسکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اصل چیز یہ ہےکہ ہمارے خیال میں ہم سب کو گزشتہ ہفتے سے سیکھنا چاہیے اور ہم ہمیشہ جو ٹائم لائنز بناتے ہیں وہ مکمل طور پر ہمارے کنٹرول میں نہیں ہوتیں، اب ہمیں مزید وقت درکار ہے، ہم مزید لوگوں کا انخلا کرسکتے ہیں جس کے لیے ہم دباؤ ڈال رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بظاہر نظر آیا کہ طالبان تعاون کررہے ہیں لیکن برطانوی طالبان پر انحصار نہیں کرسکتے، اس لیے ہم ترجیحی بنیادوں پر جتنی جلدی ممکن لوگوں کا تیزی سے انخلا کررہے ہیں، اگر اس میں ہمیں مزید وقت ملتا ہے تو یہ بہت اچھا ہوگا۔

واضح رہےکہ برطانوی وزیراعظم جی سیون ممالک کے ورچوئل اجلاس کی میزبانی کریں گے جس میں برطانوی حکومت کی جانب سے طالبان پر مزید پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں