بالی وڈ کی وہ 6 فلمیں کونسی ہیں جن کی عکس بندی افغانستان میں ہوئی؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ بالی وڈ کی کئی ایسی فلمیں ہیں جن کی عکس بندی افغانستان کے مختلف علاقوں میں کئی دہائیوں قبل یا کچھ سال پہلے کی گئی؟
بھارتی اداکارہ ہیما مالنی اور اداکار فیروز خان دھرماتما کی شوٹنگ کیلئے افغانستان کے دارالحکومت کابل گئے تھے۔ یہ بالی وڈ کی پہلی فلم تھی جو افغانستان میں عکس بند کی گئی جسے ناظرین کیلئے 1975 میں ریلیز کیا گیا۔

حال ہی میں اداکارہ نے افغانستان پر طالبان کے قبضے کے موقع پر بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے وہ وقت یاد کیا جب وہ افغانستان میں تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ ملک بے حد اچھا تھا، یہاں کے لوگ بھی کافی ملنسار تھے، ہم نے ڈھابے پر سے چپاتیوں کے ساتھ پیاز بھی کھائی تھی۔
امیتابھ بچن اور سری دیوی کی 1992 میں ریلیز ہونے والی فلم خدا گواہ کی عکس بندی افغانستان میں کی گئی۔

کچھ سال قبل امیتابھ بچن نے عکس بندی کا احوال مداحوں سے شیئر کیا تھا جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ افغانستان میں ہمیں کافی پروٹوکول دیا گیا، اس وقت ہر جگہ فوج تعینات تھی، بڑے بڑے ٹینکس بھی موجود تھے اور وہ ایک خوفناک منظر تھا۔

ایک اندازے کے مطابق یہ فلم افغانستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھی جانیوالی فلم تھی۔
اداکار فردین خان اور سلینا جیٹلی کی فلم جانشین 2003 میں ریلیز کی گئی تھی۔ اس فلم کا شمار بھی ان میں ہوتا ہے جنہیں افغانستان میں فلمایا گیا۔
2006 میں ریلیز کی جانیوالی فلم کابل ایکسپریس کے کئی سین افغانستان کے مختلف علاقوں میں فلمائے گئے۔ اس فلم کے مرکزی کرداروں میں جان ابراہم اور ارشد وارسی شامل تھے۔
2012 میں آنے والی بالی وڈ فلم ایجنٹ وینود بھی افغانستان میں عکس بند کی گئی۔ اس فلم کے مرکزی کرداروں میں سیف علی خان اور کرینہ کپور شامل تھے۔
اداکار سنجے دت اور نرگس فخری کی فلم ٹورباز 2020 میں ریلیز کی گئی۔ اس فلم کی عکس بندی بھی افغانستان کے علاقوں میں کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں