سندھ ہائی کورٹ نے زوہیب حسن کو اشتیاق بیگ کیخلاف بیانات دینے سے روک دیا

معروف گلوکارہ نازیہ حسن کے بھائی زوہیب حسن کے خلاف ایک ارب روپے ہرجانے کے دعوے کی سماعت پر سندھ ہائی کورٹ نے زوہیب حسن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے بیانات دینے سے روک دیا۔

نازیہ حسن کے شوہر مرزا اشتیاق بیگ کی جانب سے دائر دعوے میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ زوہیب حسن نے گزشتہ مہینے ایک انٹر ویو میں ان پر من گھڑت اور جھوٹے الزامات عائد کیے۔

نازیہ نے خود لکھوایا کہ شوہر نے انہیں کچھ کھلایا تھا اور برا سلوک کرتے تھے، زوہیب

انہوں نے مؤقف اپنایا تھا کہ زوہیب حسن نے نازیہ حسن کی موت کو غیر فطری قرار دیا جبکہ نازیہ حسن لمبے عرصے تک کینسر میں مبتلا رہیں، نازیہ کے انتقال سے متعلق برطانوی حکام کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ موجود ہے۔

مرزا اشتیاق بیگ کا کہنا ہے کہ زوہیب حسن کے الزامات کا مقصد انہیں بلیک میل کرنا ہے۔

عدالت نے زوہیب حسن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 7 اکتوبر تک تفصیلی جواب دینے کی ہدایت کردی۔

عدالت نے زوہیب حسن کو اشتیاق بیگ کے خلاف کسی قسم کا بیان نہ دینے کی بھی ہدایت کردی۔

اشتیاق بیگ نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ زوہیب حسن کو ان کیخلاف بیان بازی سے روکا جائے، زوہیب حسن اپنا بیان واپس لے کر معافی مانگیں اور زوہیب حسن سے ایک ارب روپے ہرجانہ بھی دلوایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں